بریگیڈیئرجنرل ہادیان کا کہنا تھا کہ عام طور پر ہائی برڈ آپریشن سسٹم پر عملدرآمد نے ایرانی فضائیہ کی حربی طاقت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون سسٹمز، معلومات اکٹھا کرنے اور الیکٹرانک جنگ کے ساتھ ساتھ فضائیہ کے جنگی طیاروں کو آپریشن کے لیے مناسب اور محفوظ راستہ فراہم کرتے ہیں۔
ایرانی فضائیہ کے ڈپٹی کمانڈر نے ڈرون سسٹمز کی حربی توانائیوں کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ اپنی جنگی طاقت کو بہتر بنانے کے لیے ایرانی فضائیہ دور دراز کے اہداف کو تباہ کرنے کے لیے اسمارٹ اور پن پوائنٹ ہتھیاروں سے لیس ڈرونز کا استعمال کرتی ہے۔
بریگیڈیئر جنرل ہادیان نے کہا کہ آج ایرانی فضائیہ میں یو اے وی سسٹم کو ایک لاثانی طاقت کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔
ایرانی فضائیہ کے ڈپٹی کمانڈر نے اس بات پر زور دیا کہ ڈرون سسٹمز نے فضائیہ کے کردار اور کارکردگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم ایرانی فضائیہ کے مختلف اڈوں اور آپریشنل یونٹس میں مختلف صلاحیتوں کے حامل ڈرون طیاروں کا استعمال کرتے ہوئے ملک کی فضائی نگرانی کر رہے ہیں۔
ایران کی دفاعی حکمت عملی بنیادی طور پر ڈیٹرنس کے اصول پر مبنی ہے۔ حقیقی ڈیٹرنس پیدا کرنے کے لیے قابل اعتماد عسکری صلاحیتوں اور توانائیوں کے ساتھ ساتھ جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ایک طاقتور فوج کا ہونا ضروری ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ایرانی فوج کی سالانہ فوجی مشقوں کے دوران فضائیہ کے اسکواڈرن نے بھی، فرضی دشمنوں کے ٹھکانوں اور متحرک اہداف کو مسمار کر دیا ۔ ذوالفقار فوجی مشقوں کے دوران ڈرون طیاروں کی مدد سے میدان جنگ اور فرضی دشمن کی تنصیبات کی تصاویر لی گئیں اور ان تصاویر کو براہ راست فوجی کمان کے لئے بھیجا گیا جہاں سے میزائلوں اور توپوں سے ان اہداف کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242